کلکتہ،یکم اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) مغربی بنگال کے 30 اسمبلی حلقے میں جاری پولنگ کے دوران نندی گرام جہاں وزیر اعلی ممتا بنرجی کا سویندو ادھیکاری کے خلاف مقابلہ ہے میں ہنگامہ آرائی کی خبر ہے، ادھیکاری نے دعوی کیا ہے کہ ان کی گاڑی پر شرپسند عناصر نے حملہ کیا ہے۔ ادھیکاری نے کہا کہ بنگال میں جنگل راج ہے، اطلاعات کے مطابق سویندو کے قافلے پر کچھ لوگوں نے اس وقت حملہ کر دیا جب ان کا قافلہ گزر رہا تھا۔
ادھیکاری نے بتایا کہ جن لوگوں نے یہ حملے کیے ہیں ان میں ہمت نہیں تھی کہ وہ سامنے سے آکر ان پر حملہ کریں۔ لیکن ان کے جانے کے بعد پیچھے کار پر حملہ ہوا۔ انہوں نے مرکزی فورس کے اہلکاروں سے رابطہ کیا جس کے بعد کار میں موجود افراد کو بچایا جاسکا۔ ادھیکاری نے دعوی کیا کہ میڈیا اہلکاروں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔
سویندو نے دعوی کیا کہ جن لوگوں نے ان پر حملہ کیا وہ ایک خاص برادری سے تھے اور وہ پاکستانی تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بنگلہ دیش کے ’جئے بنگلہ‘ کے نعرے کی حمایت کر رہے ہیں وہ ان پر حملہ کر رہے ہیں، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ریاستی بی جے پی صدر دلیپ گھوش نے سویندو ادھیکاری پر ہوئے حملے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی لڑ رہی ہے تاکہ مغربی بنگال میں امن و امان اور جمہوریت کی حکمرانی بحال ہوسکے۔ انتخابات کے دن بھی جس طرح سے حملے ہو رہے ہیں، سویندو ادھیکاری پر پتھراؤ کیا گیا ہے، یہ ترنمول کانگریس کی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے اور بی جے پی اس سے اپنی آزادی کے لئے کوشاں ہے۔ بنگال کے عوام بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ پہلے مرحلے میں بڑے پیمانے پر ووٹنگ ہوئی ہے، دوسرے مرحلے میں زیادہ پولنگ ہو رہی ہے، بنگال تبدیلی کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ کرنے والے پاکستانی ہیں۔